ابنا: بانکی مون نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی آخری فیصلہ، امریکہ اور روس کے وزرائے خارجہ کے درمیان صلاح و مشورے کے نتیجے میں ہوگا۔جنیوا ٹو کانفنس میں شرکت کیلئے باضابطہ طور پر دعوت نامے تقسیم کئے جانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ملک کی حیثیت سے امریکہ، اس کانفرنس میں ایران کی شرکت کے خلاف ہے۔ حالانکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کانفرنس میں ایران کی شرکت بہت زیادہ ضروری ہے۔ ایرانی حکام نے بھی بارہا بحران شام کے حل میں اپنی مددوتعاون کیلئے آمادگی کا اعلان کیا ہے جبکہ وہ اس بات پر بھی تاکید کرتے رہے ہیں کہ ایران جنیوا ٹو کانفرنس میں شرکت کیلئے مصر نہیں ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اخضر ابراہیمی نے بھی جنیوا ٹو کانفرنس میں ایران کی شرکت کی اہمیت پر تاکید کی ہے۔
.......
/169